لاہور(رم نیوز)پنجاب میں سیلابی صورتحال سنگین ہو گئی ہے، قصور، چشتیاں، پاکپتن، اور احمد پور شرقیہ سمیت کئی علاقوں میں حفاظتی بند ٹوٹنے سے بستیاں زیرِ آب آگئیں اور زمینی رابطے منقطع ہو گئے۔ دریائے ستلج، راوی اور چناب میں طغیانی سے 1769 دیہات متاثر، 15 لاکھ افراد بے گھر، جبکہ 28 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
قصور میں تاریخ کا سب سے بڑا سیلابی ریلا گزرا، جبکہ ملتان میں آج شام تک بڑا ریلا داخل ہونے کا امکان ہے۔ متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی جاری ہے، ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے سیلابی علاقوں کا دورہ کیا۔
ادھر سندھ اور بلوچستان میں بھی سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا ہے، ایشیائی ترقیاتی بینک نے ہنگامی امداد کے طور پر پاکستان کو 30 لاکھ ڈالر گرانٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔