مسقط/ واشنگٹن (رم نیوز) عمان کے دارالحکومت مسقط میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کا پہلا دور ختم ہو گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان مذاکرات کو "انتہائی مثبت" قرار دیا ہے، تاہم اس سفارتی پیش رفت کے سائے میں واشنگٹن نے ایران کی تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات پر نئی کڑی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔عمان کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات میں دونوں فریقین ایک دوسرے کے سامنے نہیں بیٹھے۔
عمانی وزیر خارجہ نے دونوں وفود کے درمیان قاصد کا کردار ادا کیا، ایک کمرے سے ایرانی مطالبات دوسرے کمرے میں موجود امریکی وفد تک پہنچائے۔صدر ٹرمپ نے مذاکرات کو "بہت اچھے" (Very Good) قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ دوسرا دور آئندہ ہفتے شروع ہوگا۔تہران نے بھی مذاکرات کے ماحول کو مثبت قرار دیا ہے اور مزید بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
ایک طرف مذاکرات کو سراہا جا رہا ہے، تو دوسری طرف امریکی محکمہ خارجہ نے ایران کی غیر قانونی تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات کو روکنے کے لیے جہاز رانی کے اداروں پر نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔
ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں ایران پر "زیادہ سے زیادہ دباؤ" ڈالنے کی مہم کا حصہ ہیں تاکہ اسے معاہدے پر مجبور کیا جا سکے۔
یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب خطے میں امریکی بحری بیڑا مکمل الرٹ ہے اور صدر کے اشارے کا منتظر ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس جون 2025 میں امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ کارروائی کے ذریعے ایران کی جوہری تنصیبات، سائنسدانوں اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈرز کو نشانہ بنایا تھا۔ اس ہلاکت خیز حملے کے بعد یہ دونوں ممالک کے درمیان پہلا باضابطہ سفارتی رابطہ ہے۔
صدر ٹرمپ کی یہ حکمتِ عملی "ترغیب اور دھمکی" کا امتزاج دکھائی دیتی ہے، جہاں وہ ایک طرف مذاکرات کا دروازہ کھول رہے ہیں تو دوسری طرف معاشی اور فوجی دباؤ کو انتہا پر رکھ رہے ہیں۔