بنگلہ دیش انتخابات: بی این پی اور جماعت اسلامی میں کانٹے کا مقابلہ، عوامی سروے نے سنسنی پھیلا دی

ڈھاکہ (رم نیوز) بنگلہ دیش میں 12 فروری کو ہونے والے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے لیے انتخابی مہم فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ تازہ ترین عوامی سروے کے مطابق، ملک کی دو بڑی سیاسی قوتوں کے درمیان جیت کا فرق نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ بنگلہ دیشی میڈیا کی جانب سے جاری کردہ سروے کے مطابق طارق رحمٰن کی قیادت میں (بی این پی) کے اتحاد کو 44.1 فیصد ووٹ ملنے کی توقع ہے۔ شفیق الرحمن کی قیادت میں جماعتِ اسلامی اور طلبہ رہنماؤں کے 11 جماعتی اتحاد کو 43.9 فیصد ووٹ مل سکتے ہیں۔

یہ انتخابات اس لحاظ سے بھی اہم ہیں کہ بی این پی کے سربراہ طارق رحمٰن 17 سالہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس آ کر مہم چلا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب جماعتِ اسلامی نے ان طاقتور طلبہ رہنماؤں کے ساتھ ہاتھ ملایا ہے جنہوں نے شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹا تھا۔ میدان میں کل 51 سیاسی جماعتوں کے 1700 سے زائد امیدوار پارلیمنٹ کی 300 نشستوں کے لیے مدمقابل ہیں، تاہم اصل جنگ طارق رحمٰن اور شفیق الرحمن کے اتحادوں کے درمیان ہی تصور کی جا رہی ہے۔