کراچی (رم نیوز) ایم اے جناح روڈ پر پیش آنے والے المناک 'سانحہ گل پلازہ' کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے باقاعدہ کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ کمیشن نے پبلک نوٹس جاری کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ واقعے سے متعلق کسی بھی قسم کے شواہد یا حقائق کمیشن کے سامنے پیش کریں۔
بدھ کے روز سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں کمیشن کا پہلا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمشنر کراچی، سیکرٹری قانون اور سیکرٹری داخلہ نے شرکت کی، جہاں تحقیقات کے طریقہ کار اور دائرہ کار (TORs) پر تفصیلی غور کیا گیا۔جوڈیشل کمیشن نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی شہری کے پاس سانحے سے متعلق تصویری، دستاویزی یا چشم دید شواہد موجود ہوں تو وہ بلا جھجھک کمیشن سے رجوع کر سکتا ہے۔
چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس ظفر احمد راجپوت کی ہدایت پر کمیشن کا سیکرٹریٹ سندھ ہائیکورٹ میں قائم کر دیا گیا ہے۔ جسٹس آغا فیصل نے کمشنر کراچی کو حکم دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ماہرین، فوکل پرسن اور رجسٹرار پر مشتمل اسٹاف نوٹیفائی کریں تاکہ تحقیقاتی عمل میں تیزی لائی جا سکے۔
کمیشن نے پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ (PID) کو بھی ہدایت کی ہے کہ عوامی آگاہی کے لیے پبلک نوٹس ملک کے تمام بڑے اخبارات میں شائع کروایا جائے۔