لاہور( رم نیوز)لاہور ہائیکورٹ میں سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شاہد کریم نے درختوں کی کٹائی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ درخت کاٹنے والے ملزمان کی ضمانتیں نہیں ہونی چاہئیں۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ قانون میں ترمیم کر کے درختوں کی کٹائی سے متعلق دفعات کو ناقابل ضمانت بنایا جائے۔
جسٹس شاہد کریم نے استفسار کیا کہ پراسکیوٹر جنرل سے بات کی جائے کہ ملزمان کی ضمانتیں کیسے ہو رہی ہیں، کیونکہ جب تک ضمانتیں ہوتی رہیں گی، درختوں کی کٹائی نہیں رکے گی۔ عدالت نے پی ایچ اے (PHA) کے وکیل کے تاخیر سے پیش ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ادارے کے رویے کو قابل افسوس قرار دیا۔ عدالت نے درختوں سے متعلق جامع پالیسی بنانے کی رپورٹ طلب کر لی ہے اور حکم دیا ہے کہ درختوں کی کٹائی سے متعلق کسی بھی فیصلے سے قبل جوڈیشل واٹر کمیشن سے مشاورت لازمی کی جائے۔
پنجاب یونیورسٹی میں میاواکی جنگل کی ہدایت پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ شیخ زید سینٹر میں 60 بڑے درخت کاٹنے کے معاملے پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، اور یونیورسٹی میں ایک لاکھ نئے درخت لگانے کا منصوبہ تیار ہے۔ جسٹس شاہد کریم نے ہدایت کی کہ یونیورسٹی میں میاواکی طرز پر جنگل لگایا جائے۔ کیس کی مزید سماعت 16 فروری تک ملتوی کر دی گئی ہے۔