ڈھاکہ (رم نیوز) چین نے بنگلہ دیش میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں اور اگست 2024 میں قائم ہونے والی عبوری حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک نئی بلندی پر لے جانے کا اعلان کیا ہے۔
بیجنگ نے واضح کیا ہے کہ وہ ڈھاکہ کے ساتھ اپنی دیرینہ دوستی اور معاشی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ سفارتی پیغام اور مستقبل کا لائحہ عمل چینی سفارتخانے کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ چین بنگلہ دیش میں سیاسی استحکام کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ سفارتخانے کے مطابق نئی انتظامیہ کے ساتھ مل کر چین،بنگلہ دیش تعلقات کے نئے ابواب رقم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
بیجنگ نے بنگلہ دیش کی تمام بڑی سیاسی قوتوں، بشمول بی این پی (BNP)، کے ساتھ مثبت روابط برقرار رکھنے اور مستقبل کے جمہوری عمل میں استحکام کی امید ظاہر کی ہے۔ چینی سرکاری میڈیا بنگلہ دیش میں عوامی امنگوں اور مستقبل کے ممکنہ انتخابی منظرنامے کو نمایاں کوریج دے رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے متحرک ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ چین کی جانب سے یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ وہ بنگلہ دیش کے اندرونی سیاسی ڈھانچے میں تبدیلی کے باوجود اپنے معاشی اور تزویراتی مفادات کے تحفظ کے لیے ڈھاکہ کو ایک ناگزیر شراکت دار سمجھتا ہے۔