میدان وہی، حریف وہی، نتیجہ بھی وہی: شاہینوں کی پرواز کو کس کی نظر لگ گئی؟

پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ کا میدان ہمیشہ سے محض ایک کھیل نہیں رہا ۔یہ دونوں روایتی حریف ہیں اور کھیل کا میدان صرف کھیل کا میدان نہیں ہوتا، اس میں جوش، جذبہ، احساس سب کچھ دیکھنے کو ملتا ہے بلکہ یہ اعصاب، مہارت اور قومی وقار کا استعارہ رہا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں کے اعداد و شمار ایک ایسی تلخ اور لرزہ خیز حقیقت پیش کر رہے ہیں جس نے کروڑوں پاکستانی شائقین کو گہری مایوسی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ گذشتہ چار ماہ کے دوران روایتی حریف کے ہاتھوں چوتھی مسلسل شکست محض ایک "برا دن" نہیں، بلکہ اس بات کا اعلان ہے کہ پاکستان کا کرکٹ نظام اب بانجھ ہو چکا ہے۔

اگر ہم جذباتیت چھوڑ کر حقائق پر نظر ڈالیں تو صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ 2017 کی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں بھارت کو دھول چٹانے کے بعد ایسا محسوس ہوتا تھا کہ پاکستان نے عالمی کرکٹ میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر لیا ہے، مگر اس کے بعد سے اب تک کھیلے گئے 16 وائٹ بال میچوں میں سے بھارت نے 13 میں فتح سمیٹی۔ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں تو پاکستان کی بے بسی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ بھارت مسلسل 8 میچ جیت چکا ہے۔ 4 ستمبر 2022 کے بعد سے دبئی ہو یا نیویارک، کولمبو ہو یا احمد آبادپاکستانی شاہینوں کی پرواز روایتی حریف کے سامنے دم توڑتی نظر آئی ہے

۔ حال ہی میں کولمبو میں کھیلے گئے میچ نے پاکستانی ٹیم کی منصوبہ بندی کے تمام بخیے ادھیڑ دیے۔ اس میچ کا سب سے تکلیف دہ پہلو بولنگ کا وہ عدم توازن تھا جس نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔ ایک طرف سلمان آغا، عثمان طارق، محمد نواز اور صائم ایوب جیسے پارٹ ٹائم یا نسبتاً کم تجربہ کار بولرز نے 14 اوورز میں صرف 87 رنز دیے، تو دوسری جانب ٹیم کے نام نہاد ’سٹرائیک بولرز‘ شاہین شاہ آفریدی، ابرار احمد اور شاداب خان نے محض 6 اوورز میں 86 رنز لٹا دیے۔ یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ ہمارے اہم ترین مہرے دباؤ کے وقت نہ صرف ناکام ہو رہے ہیں بلکہ ٹیم پر بوجھ بن رہے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ فہیم اشرف جیسے آل راؤنڈر کو مسلسل تیسرے میچ میں بھی بولنگ نہ دے کر کپتان نے اپنی انتظامی صلاحیتوں پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پاکستان کی ناکامی کی جڑیں صرف گراؤنڈ تک محدود نہیں بلکہ اس فرسودہ ڈھانچے میں پیوست ہیں جو جدید کرکٹ کے تقاضوں کو سمجھنے سے قاصر ہے۔

بھارت نے جہاں اپنی ڈومیسٹک کرکٹ اور آئی پی ایل کے ذریعے ذہنی طور پر مضبوط اور تکنیکی لحاظ سے پختہ کھلاڑیوں کی کھیپ تیار کی ہے، وہیں پاکستان اب بھی چند انفرادی ٹیلنٹ کے سہارے چل رہا ہے۔ جون 2024 میں نیویارک کے میدان پر 120 رنز کا معمولی ہدف عبور نہ کر پانا اور حالیہ ورلڈ کپ میں 61 رنز کی بھاری شکست اس بات کی غماز ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں میں ’فنیشنگ‘ کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے اور وہ بھارتی بولنگ کے سامنے نفسیاتی طور پر میچ شروع ہونے سے پہلے ہی ہار مان لیتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) میں بار بار کی تبدیلیاں، کوچز کا ردو بدل اور کپتانوں کی میوزیکل چیئر نے ٹیم کے استحکام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

شائقینِ کرکٹ اب یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ ہمارے سٹرائیک بولرز بڑے میچوں میں اتنے بے اثر کیوں ہو جاتے ہیں؟ڈومیسٹک کرکٹ سے آنے والا ٹیلنٹ بین الاقوامی دباؤ کے سامنے ریت کی دیوار کیوں ثابت ہوتا ہے؟۔ بھارت سے مسلسل شکستوں کا یہ داغ تبھی دھل سکتا ہے جب پاکستان کرکٹ کی بنیادوں میں سرجری کی جائے۔ محض چہرے بدلنے سے کچھ نہیں ہوگا، ہمیں اپنے ڈومیسٹک ڈھانچے کو میرٹ پر استوار کرنا ہوگا اور کھلاڑیوں کی ذہنی تربیت کے لیے جدید خطوط پر کام کرنا ہوگا۔ ورنہ وہ وقت دور نہیں جب پاک بھارت ٹکراؤ اپنی روایتی چاشنی کھو دے گا اور دنیا اسے ایک یکطرفہ مقابلہ سمجھ کر نظر انداز کر دے گی۔ اب وقت ہے کہ ہم خوابِ غفلت سے جاگیں، ورنہ تاریخ ہمیں صرف ایک ’سابقہ عظیم ٹیم‘ کے طور پر یاد رکھے گی۔