سفارتی تعلقات میں بڑی پیش رفت، چین کا برطانیہ اور کینیڈا کے لیے 'ویزا فری' سفر کا اعلان

بیجنگ/لندن(رم نیوز) چین نے ایک اہم عالمی فیصلے کے تحت برطانیہ اور کینیڈا کے شہریوں کو بغیر ویزا ملک میں داخل ہونے کی اجازت دے دی ہے۔ اس نئی پالیسی کا اطلاق 17 فروری 2026 سے ہوگا، جس کے بعد دونوں ممالک کے پاسپورٹ ہولڈرز 30 دن تک مین لینڈ چین میں قیام کر سکیں گے۔چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ سہولت سیاحت، کاروباری مقاصد اور ذاتی ملاقاتوں کے لیے فراہم کی گئی ہے اور یہ پالیسی ابتدائی طور پر 31 دسمبر 2026 تک نافذ العمل رہے گی۔ یہ پیش رفت برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کے حالیہ دورہ چین کے بعد سامنے آئی ہے، جہاں انہوں نے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی تھی۔

2018 کے بعد کسی بھی برطانوی وزیرِ اعظم کا یہ پہلا دورہ تھا، جس کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان سرد مہری کو ختم کرنا اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ سر کیئر سٹارمر کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے برطانوی کمپنیوں کو چینی مارکیٹ میں قدم جمانے اور کاروبار کو وسعت دینے میں مدد ملے گی۔برطانیہ اور کینیڈا اب ان 50 ممالک کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں جنہیں چین نے ویزا فری رسائی دی ہے، جن میں فرانس، جرمنی، اٹلی اور جاپان بھی شامل ہیں۔ 2024 میں تقریباً 6 لاکھ 20 ہزار برطانوی شہریوں نے چین کا سفر کیا تھا، ویزا کی شرط ختم ہونے سے اس تعداد میں بڑے اضافے کی توقع ہے۔

جہاں کاروباری طبقہ اس فیصلے کو سراہ رہا ہے، وہیں برطانیہ میں اپوزیشن اور انسانی حقوق کے علمبردار اسے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ناقدین کا موقف ہے کہ حکومت تجارت کو انسانی حقوق اور قومی سلامتی کے خدشات پر ترجیح دے رہی ہے۔ خاص طور پر لندن میں نئے چینی سفارت خانے کی منظوری کو جاسوسی کے خطرات سے جوڑا جا رہا ہے۔چینی وزارتِ خارجہ نے اس اقدام کو 'عوامی روابط میں آسانی' کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے بین الاقوامی تعاون کو تقویت ملے گی۔