کراچی (رم نیوز)سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں ڈی سی جنوبی کے دفتر میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران سانحے میں جاں بحق ہونے والے 33 افراد کے لواحقین نے اپنے بیانات قلمبند کروائے اور ریسکیو آپریشن میں تاخیر پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ کمیشن کی کارروائی اور جسٹس آغا فیصل کے ریمارکس تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ جسٹس آغا فیصل نے لواحقین سے گفتگو کرتے ہوئے جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ٹریبونل کا بنیادی مقصد مستقبل میں ایسے المناک واقعات اور جانی نقصانات کا سدِباب کرنا ہے۔ مالی نقصان کی تلافی ممکن ہے، مگر انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں۔ حقائق تک پہنچنے کے لیے عوام، حکومت اور ریسکیو اداروں سمیت تمام متعلقہ فریقین سے معلومات حاصل کی جائیں گی۔ لواحقین کے بیانات اور سنگین الزامات لواحقین نے اپنے بیانات میں ریسکیو آپریشن اور ضلعی انتظامیہ کے رویے پر کڑی تنقید کی۔
ان کے مطابق جانی نقصان کی بڑی وجوہات درج ذیل تھیں۔ عمارت میں ہنگامی نظام موجود ہونے کے باوجود بروقت اعلانات نہیں کیے گئے۔ فائر بریگیڈ کی محدود استعداد، پانی کی قلت، بند کھڑکیاں اور راستوں میں موجود رکاوٹیں بڑی رکاوٹ ثابت ہوئیں۔ اگر ابتدائی 30 منٹ میں مؤثر اقدامات کیے جاتے تو کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ متاثرہ خاندانوں نے ضلعی انتظامیہ کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرین کے لیے "ون ونڈو" سہولت فراہم کی جائے تاکہ انہیں درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔