اسلام آباد / کابل (رم نیوز)پاکستان نے سرحد پار سے بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے افغانستان کے مشرقی علاقوں میں بڑا انٹیلی جنس بیسڈ فضائی آپریشن کیا ہے۔ پاکستانی شاہینوں نے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بناتے ہوئے 7 اہم ٹھکانے ملیامیٹ کر دیے، جس کے نتیجے میں مطلوب طالبان کمانڈر اختر محمد سمیت متعدد دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی جیٹ طیاروں نے صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں دہشت گردوں کے مراکز پر درست نشانے لگائے۔برمل میں ہونے والے زوردار دھماکوں میں دہشت گردوں کا انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا اور کمانڈر اختر محمد کے مارے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔ ضلع خوگیانی اور کامی میں بھی فضائی کارروائی کی گئی جہاں تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔مرغہ کے علاقے میں واقع اس مرکز پر دھماکے سے 10 سے زائد شدت پسند ہلاک ہوئے، یہ مقام خارجیوں کے اہم مرکز کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔
وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق یہ کارروائی اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں ہونے والے حالیہ خودکش حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔ پاکستان کے پاس اس بات کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود قیادت اور 'فتنہ الخوارج' کے ہینڈلرز نے کی تھی۔ پاکستان نے عبوری افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ وزارتِ اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان کے عوام کی سلامتی اور تحفظ سب سے مقدم ہے۔ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں، پاکستانی دفتر خارجہ اور وزارتِ اطلاعات نے عالمی برادری پر بھی زور دیا ہے کہ وہ طالبان حکومت کو اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے پر آمادہ کرنے میں اپنا تعمیری کردار ادا کرے۔