اے آئی ویڈیو جنریشن میں نیا انقلاب: 'سی ڈانس' نے فلم سازی کے معیار بدل دیے

نیویارک/لندن(رم نیوز) مصنوعی ذہانت کے میدان میں 'سی ڈانس' (SeaDance) نامی ویڈیو ماڈل نے اپنی حیرت انگیز کارکردگی سے عالمی ماہرین اور فلم سازوں کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ اگرچہ یہ ماڈل جون 2025 میں متعارف کرایا گیا تھا، تاہم اس کے حالیہ دوسرے ورژن نے محض چند ماہ میں ویڈیو پروڈکشن کے معیار کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ کریٹیو ماہرین کا ماننا ہے کہ 'سی ڈانس' نے پہلی بار ایسی ویڈیوز تیار کی ہیں جو کسی اے آئی ماڈل کے بجائے ایک پیشہ ور پروڈکشن کمپنی کی تخلیق لگتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ ماڈل تحریر ، تصویر اور آڈیو کو اس مہارت سے یکجا کرتا ہے کہ اس کے تیار کردہ ایکشن سیکوئنس کسی بڑے بجٹ کی فلم کا منظر معلوم ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں 'سی ڈانس' کی مدد سے بنائی گئی سپائیڈر مین اور ڈیڈ پول جیسے مقبول کرداروں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں۔ خاص طور پر اداکار ول سمتھ کی سپگیٹی مونسٹر سے لڑائی کے مناظر نے اس ٹیکنالوجی کی حقیقت پسندی پر مہر ثبت کر دی ہے۔ اینیمیشن ماہرین کا کہنا ہے کہ اسے دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ کے ساتھ کوئی ماہر سنیماٹوگرافر کام کر رہا ہو۔جہاں یہ ٹیکنالوجی اپنی مہارت کی وجہ سے مقبول ہو رہی ہے، وہیں اسے شدید قانونی مزاحمت کا بھی سامنا ہے۔

ڈزنی اور پیرا ماؤنٹ جیسی بڑی تنظیموں نے سپائیڈر مین اور ڈارک ویڈر جیسے کاپی رائٹ شدہ کرداروں کے استعمال پر سخت اعتراض کرتے ہوئے قانونی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ جاپان نے بھی اپنے مقبول اینیمی کرداروں کے غیر قانونی استعمال پر اس ٹیکنالوجی کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔