90 فیصد کم قیمت، 30 فیصد زیادہ درستگی: چینی اے آئی ماڈلز نے امریکی مارکیٹ میں ہلچل مچا دی

سلیکون ویلی (رم نیوز)مصنوعی ذہانت کے عالمی میدان جنگ میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ جہاں اب تک امریکی کمپنیوں کو اس ٹیکنالوجی کا بے تاج بادشاہ سمجھا جاتا تھا، وہیں اب پنٹ ریسٹ (Pinterest) اور ایئر بی این بی (Airbnb) جیسی بڑی امریکی ٹیک کمپنیاں خاموشی سے چینی اے آئی ماڈلز کی طرف منتقل ہو رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی ماہرین اس صورتحال کو ایک بڑا اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔

چینی کمپنیوں جیسے علی بابا (Qwen) اور ڈیپ سیک (DeepSeek) نے اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی کو 'اوپن سورس' کر دیا ہے، یعنی یہ مفت ڈاؤن لوڈ اور استعمال کے لیے دستیاب ہے۔ اس کے برعکس، اوپن اے آئی جیسے امریکی ادارے اپنی ٹیکنالوجی کو مہنگے داموں اور محدود شرائط کے ساتھ فراہم کرتے ہیں۔ چینی اے آئی ماڈلز امریکی حریفوں کے مقابلے میں 90 فیصد تک سستے پڑتے ہیں۔ پنٹ ریسٹ کے مطابق چینی اوپن سورس ماڈلز کی درستگی امریکی ماڈلز سے 30 فیصد زیادہ ہے۔

ایئر بی این بی کے سربراہ نے اعتراف کیا کہ چینی ماڈلز استعمال میں انتہائی تیز اور موثر ہیں۔ سٹینفرڈ یونیورسٹی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق چینی ماڈلز اب نہ صرف صلاحیت میں امریکی ماڈلز کے برابر آ چکے ہیں بلکہ کئی شعبوں میں ان سے آگے نکل رہے ہیں۔ سابق برطانوی نائب وزیر اعظم سر نک کلیگ نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک عجیب ستم ظریفی ہے کہ چین اپنی ٹیکنالوجی کو 'عوامی' یعنی اوپن بنا رہا ہے جبکہ امریکہ اسے تجارتی منافع کے لیے محدود کر رہا ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر امریکی کمپنیوں نے اپنی 'کلوزڈ سورس' پالیسی پر نظرثانی نہ کی تو وہ جلد ہی اس عالمی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گی۔