واشنگٹن(رم نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور کے پہلے 'اسٹیٹ آف دی یونین' خطاب میں سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی سخت ٹیرف پالیسی اور سفارت کاری نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ ایٹمی جنگ سمیت دنیا کی 8 بڑی جنگیں رکوانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ایوانِ نمائندگان سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کی صورتحال پر گفتگو کی اور کہا کہ پاکستان اور بھارت ایٹمی جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے تھے، تاہم ان کی مداخلت سے اس تباہی کو ٹالا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ "پاکستانی وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ صدر ٹرمپ نے ساڑھے 3 کروڑ افراد کی جانیں محفوظ رہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنی ایک سالہ کارکردگی کو "صدیوں کی سب سے بڑی واپسی" قرار دیتے ہوئے کہا بائیڈن دور کی بیمار معیشت کو ورثے میں پانے کے بعد ایک سال میں بے مثال اصلاحات کیں۔مہنگائی کو کم کر کے 1.7 فیصد کی سطح پر لایا گیا۔امریکہ میں گیس (پٹرول) کی قیمتیں 1.99 ڈالر فی گیلن تک گر چکی ہیں۔
امریکی سٹاک مارکیٹ ریکارڈ بنا رہی ہے اور ایک سال میں 18 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری ممکن ہوئی۔ صدر ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو "مایوس کن" قرار دیا جس میں ان کے عالمی ٹیرف کو صدارتی اختیارات سے تجاوز کہا گیا تھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ قومی سلامتی کے پیشِ نظر تجارتی قانون کی دفعہ 122 کے تحت 15 فیصد نئے عالمی ٹیرف نافذ کر رہے ہیں۔ایران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے ایران کا نیوکلیئر پروگرام تباہ کر دیا ہے جو امریکہ تک پہنچنے والے میزائل تیار کر رہا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ یہ سننا چاہتا ہے کہ ایران مستقبل میں کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں رکھے گا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 9 ماہ کے دوران کوئی غیر قانونی تارکین وطن امریکہ میں داخل نہیں ہو سکا اور سرحدیں اب مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی مہاجرین کو نکالنے کا عمل جاری ہے، تاہم وہ قانونی طور پر آنے والوں کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ صدر کے خطاب کے آغاز سے قبل ایوان میں اس وقت کشیدگی پیدا ہوئی جب ڈیموکریٹ رکن کانگریس ال گرین نے ایک احتجاجی پلے کارڈ لہرایا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 78 سالہ ال گرین کو ایوان سے باہر نکال دیا، جس کے بعد صدر نے اپنا باقاعدہ خطاب شروع کیا۔