امریکہ کا ایران پر معاشی گھیرا تنگ: ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ مہم کے تحت نئی پابندیاں عائد

واشنگٹن(رم نیوز) امریکی انتظامیہ نے ایران کے خلاف اپنی زیادہ سے زیادہ دباؤ مہم کو تیز کرتے ہوئے نئی سخت مالی اور تجارتی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اقدامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں فوجی تناؤ اور جوہری پروگرام پر پسِ پردہ مذاکرات کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ امریکی وزارتِ خزانہ کے مطابق، ان تازہ پابندیوں کا بنیادی مقصد ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کی فنڈنگ کو روکنا ہے۔ واشنگٹن کا موقف ہے کہ ایران غیر قانونی طور پر تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ہتھیاروں کی تیاری اور مسلح گروہوں کی سرپرستی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

ایران کے تیل کی ترسیل میں ملوث 12 بحری جہازوں کو بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔متعدد بین الاقوامی کمپنیوں اور کلیدی افراد پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جو اس نیٹ ورک کا حصہ تھے۔ ان تمام اہداف کے امریکہ میں موجود اثاثے فوری طور پر منجمد کر دیے گئے ہیں اور امریکی شہریوں کو ان کے ساتھ کسی بھی قسم کے لین دین سے روک دیا گیا ہے۔ امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ امریکہ ایرانی قیادت کو عالمی مالیاتی نظام کا غلط استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔دوسری جانب، صرف معاشی محاذ ہی نہیں بلکہ عسکری میدان میں بھی امریکہ نے اپنی پوزیشن مضبوط کر لی ہے۔

اطلاعات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں دو امریکی ایئرکرافٹ کیریئرز تعینات کر دیے گئے ہیں۔جدید لڑاکا طیاروں کے سکواڈرنز کو الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ایرانی ردِعمل کا جواب دیا جا سکے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ ان پابندیوں کے ذریعے ایران کو ایک نئے اور سخت تر معاہدے کی میز پر لانا چاہتی ہے۔ تاہم، خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی اور معاشی پابندیوں کے اس امتزاج نے کشیدگی کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے، جس کے اثرات عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔