واشنگٹن(رم نیوز)بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی موجودہ تجارتی پالیسیوں میں نرمی لائے اور بلند ٹیرف سمیت پالیسی سازی میں موجود غیر یقینی صورتحال کو کم کرے، کیونکہ یہ عوامل عالمی معیشت کے استحکام کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی پابندیوں اور بلند محصولات (Tariffs) کی وجہ سے عالمی سطح پر مہنگائی بڑھ رہی ہے اور سرمایہ کاری کا عمل سست روی کا شکار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال عالمی اقتصادی ترقی کو کمزور کر سکتی ہے۔ آئی ایم ایف کے تحفظات کے اہم نکات کے مطابق تجارتی رکاوٹوں کے باعث سرمایہ کار نئے منصوبوں میں پیسہ لگانے سے کترانے لگے ہیں۔ ٹیرف میں اضافے کا براہ راست اثر اشیاء کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے، جس سے عام آدمی کی قوتِ خرید متاثر ہو رہی ہے۔ اگر تجارتی کشیدگی برقرار رہی تو عالمی معاشی ترقی کے اہداف حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔ عالمی معیشت کی نازک حالت کا حوالہ دیتے ہوئے آئی ایم ایف نے امریکہ اور اس کے بڑے تجارتی شراکت داروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ یکطرفہ اقدامات کے بجائے تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مل کر کام کریں۔
غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالیں۔ جلد از جلد ایسے تجارتی معاہدوں تک پہنچیں جو عالمی ترقی اور سرمایہ کاری کو تحفظ فراہم کر سکیں۔ ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف کا یہ بیان صدر ٹرمپ کی "امریکہ فرسٹ" پالیسی اور درآمدی اشیاء پر لگائے گئے حالیہ ٹیکسوں کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ آئی ایم ایف کا ماننا ہے کہ عالمی سپلائی چین کی بحالی کے لیے امریکہ کا تجارتی رویہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔