تہران/بیروت(رم نیوز)ایران کے رہبرِ اعلیٰ کی شہادت کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ شدت اختیار کر گئی ہے، جس میں اب لبنان کی حزب اللہ بھی باقاعدہ طور پر شامل ہو چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی 48 اہم ترین شخصیات اور مکمل عسکری قیادت ختم کر دی گئی ہے۔
انہوں نے ایرانی عبوری قیادت کو ہتھیار ڈالنے کے بدلے "استثنا" کی پیشکش کرتے ہوئے مذاکرات کا عندیہ دیا ہے۔ حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹوں کی بارش کر دی، جس کے جواب میں بیروت اور تہران میں شدید دھماکے ہوئے۔ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے 50 سے زائد قصبوں کو فوری طور پر خالی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ ایران نے 560 امریکی فوجی ہلاک و زخمی کرنے اور امریکی بحری بیڑے پر حملے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکی کمانڈ نے صرف 3 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔
اسرائیل میں ایرانی حملے سے 9 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ لبنانی وزیراعظم نے حزب اللہ کے اقدام کو لبنان کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا، جبکہ ایرانی آرمی چیف نے کہا ہے کہ وہ دشمن کے سامنے نہیں جھکیں گے۔