اسلام آباد (رم نیوز) پاکستان کی معاشی ٹیم اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اقتصادی جائزے کے لیے اہم مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔ وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی قیادت میں معاشی ٹیم نے آئی ایم ایف کے مشن چیف کو ملکی معیشت کی حالیہ پیشرفت پر بریفنگ دی۔ وزیر خزانہ نے وفد کو بتایا کہ پاکستان میں میکرو اکنامک استحکام مضبوط ہو رہا ہے، افراطِ زر (مہنگائی) میں کمی آئی ہے اور برآمدات میں پائیدار اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
آئی ایم ایف نے مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں 457 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایف بی آر سے تفصیلی وجوہات طلب کر لی ہیں۔ مذاکرات میں بجلی کے شعبے کے گردشی قرضے اور تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات کو کم کرنے کے اہداف پر بھی بحث کی جائے گی۔آئی ایم ایف کا وفد آئندہ ہفتے تک اسلام آباد میں قیام کرے گا، جہاں وہ مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کے حکام سے الگ الگ ملاقاتیں کر کے کرپشن کے خاتمے اور گورننس کی بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لے گا۔