تہران/ تل ابیب/ واشنگٹن (رم نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی ہے جہاں ایران نے رات گئے ایک بڑے فوجی آپریشن کے دوران اسرائیل کے مختلف شہروں اور خطے میں قائم چھ امریکی فوجی اڈوں کو سینکڑوں میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے میں آگ لگ گئی جبکہ دبئی میں آسٹریلوی و امریکی فوجی اجتماع پر بھی حملے کی تصدیق ہوئی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے 'خیبر' میزائلوں کے ذریعے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب، حیفا اور مشرقی بیت المقدس میں اہم فوجی تنصیبات، بشمول اسرائیلی فضائیہ کے ہیڈ کوارٹر اور وزیراعظم کے دفتر کو نشانہ بنایا ہے۔بحرین، عراق، متحدہ عرب امارات اور کویت میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل گرے۔ سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق دو ڈرونز امریکی سفارت خانے سے ٹکرائے جس سے عمارت کو جزوی نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ آسٹریلوی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ دبئی کے المنہاد ایئر بیس پر موجود فوجی اجتماع کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق وہاں 100 آسٹریلوی اہلکار تعینات تھے جو خوش قسمتی سے محفوظ رہے، تاہم حملے کی شدت نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم 'ہرانا' کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ایران میں شہادتوں کی تعداد 742 ہو گئی ہے، جن میں 176 بچے بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل نے جوابی کارروائی میں تہران میں نشریاتی ادارے (IRIB) کی عمارت اور دیگر مقامات کو نشانہ بنایا ہے، جس کی تصدیق ایرانی میڈیا نے بھی کر دی ہے۔ صدر ٹرمپ کا انتباہ: امریکی صدر نے ریاض سفارت خانے پر حملے کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا بدلہ جلد لیا جائے گا۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے اعتراف کیا کہ اسرائیل نے امریکہ کو اس جنگ میں دھکیلا ہے، جس سے امریکی فوجیوں کی جانیں خطرے میں پڑ گئیں۔ متحدہ عرب امارات اور قطر نے صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی حل نکالیں تاکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی معاشی بحران سے بچا جا سکے۔