قومی سلامتی پر ان کیمرہ بریفنگ: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطے، مقام پر اختلاف برقرار

اسلام آباد (رم نیوز) مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور ایران پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والے خدشات کے پیشِ نظر، وفاقی حکومت نے قومی سلامتی پر اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے اپوزیشن قیادت سے ملاقات کر کے انہیں اہم بریفنگ میں شرکت کی دعوت دی ہے، تاہم اپوزیشن نے بریفنگ کے مقام پر اعتراض اٹھا دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر رانا ثنا اللہ نے پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں قائدِ حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات کی۔ رانا ثنا اللہ نے اپوزیشن رہنماؤں کو بدھ کی صبح ساڑھے گیارہ بجے وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اِن کیمرہ اجلاس میں شرکت کا پیغام پہنچایا۔اس اہم مشاورت میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں کے سربراہان کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔

حکومتی دعوت کے جواب میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اپنا موقف سامنے رکھا ہے۔ محمود اچکزئی کا کہنا ہے کہ سکیورٹی بریفنگ مخصوص ارکان کے بجائے پوری پارلیمنٹ یا کم از کم سینیٹ کے سامنے دی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنی جماعت اور اتحادیوں سے مشورے کے بعد ہی شرکت کا حتمی فیصلہ کریں گے اور حکومت کو آگاہ کر دیں گے۔

رانا ثنا اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے زور دیا کہ خطے کی موجودہ صورتحال، خاص طور پر ایران پر ہونے والے حملے، غیر معمولی توجہ کے متقاضی ہیں۔ان کا کہنا تھا خطے کے حالات خطرناک ہیں، یہ وقت ذاتی یا جماعتی سیاست کا نہیں بلکہ قومی سلامتی کے لیے متحد ہو کر سوچنے کا ہے۔ اس ان کیمرہ اجلاس کا بنیادی مقصد علاقائی کشیدگی کے پاکستان پر ممکنہ اثرات اور دفاعی حکمت عملی پر پارلیمانی قیادت کو اعتماد میں لینا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ تمام سیاسی قوتیں اس حساس معاملے پر ایک پیج پر ہوں۔