تہران (رم نیوز) ایران میں اقتدار کی منتقلی کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ مجلسِ خبرگان (ایوانِ ماہرین) کے ایک ہنگامی اجلاس میں کثرتِ رائے سے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا تیسرا سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا ہے۔ یہ تقرری سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد عمل میں آئی ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، نئے رہبر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل انتہائی حساس حالات میں مکمل ہوا۔ مجلسِ خبرگان نے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کی مذہبی بصیرت اور طویل سیاسی تجربے کی بنیاد پر اس اعلیٰ ترین منصب کے لیے موزوں ترین قرار دیا گیا ہے۔
ایوان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نئے سپریم لیڈر کے ہاتھ پر وفاداری کا عہد کریں تاکہ ملکی اتحاد کو برقرار رکھا جا سکے۔ ایرانی صدر نے اس انتخاب کو "عزت و طاقت کے نئے دور کا آغاز" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ دشمنوں کی سازشوں کے خلاف ایک مضبوط دیوار ثابت ہوگا۔مسلح افواج کی قیادت نے نئے سپریم لیڈر سے مکمل وفاداری کا اعلان کیا ہے اور ملکی دفاع کے لیے ان کے ہر حکم پر عمل کرنے کا عہد کیا ہے۔ نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری نے کہا کہ بیرونی حملوں اور خطرات کے باوجود جمہوری اور مذہبی عمل کا تسلسل ایران کی طاقت کی علامت ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔ اسرائیلی حکام اور امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے سخت بیانات سامنے آئے ہیں، جن میں ایران کے نئے سیاسی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ تاہم، تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی داخلی پالیسیوں اور قیادت کے انتخاب میں کسی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا۔ مجتبیٰ خامنہ ای گزشتہ کئی دہائیوں سے پسِ پردہ ایران کے اہم ترین سیاسی اور عسکری فیصلوں میں شامل رہے ہیں، اور ان کے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ قریبی تعلقات انہیں ایک مضبوط ترین لیڈر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔