واشنگٹن/یروشلم (رم نیوز) ایران میں تیل کی تنصیبات اور توانائی کے مراکز پر حالیہ اسرائیلی حملوں نے واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان دیرینہ اتحاد میں دراڑ پیدا کر دی ہے۔ امریکی حکام نے ان حملوں کی شدت اور اہداف کے انتخاب پر اسرائیل سے سخت سوالات کر دیے ہیں۔امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق، بائیڈن انتظامیہ نے اسرائیل سے باقاعدہ استفسار کیا ہے کہ اس نے تہران سمیت مختلف علاقوں میں 30 سے زائد آئل ڈپو اور ریفائنریوں کو نشانہ کیوں بنایا؟ ۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے حملوں کی شدت اور مخصوص اہداف کے بارے میں واشنگٹن کو اعتماد میں نہیں لیا تھا۔ امریکہ کو ایران میں ایندھن کے ذخائر پر اس قدر بڑے پیمانے پر حملوں کی توقع نہیں تھی۔واشنگٹن نے ان حملوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے درج ذیل خطرات کی نشاندہی کی ہے۔ امریکہ کو خدشہ ہے کہ ایرانی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا براہِ راست اثر عالمی معیشت پر پڑے گا۔
امریکی حکام کے مطابق، توانائی کے ذخائر پر حملوں سے ایرانی عوام کی مشکلات بڑھیں گی، جس کے نتیجے میں ایرانی حکومت کے لیے عوامی حمایت اور ہمدردی میں کمی کے بجائے اضافہ ہو سکتا ہے۔ واشنگٹن اس بات پر فکر مند ہے کہ اسرائیل کے ان یکطرفہ اقدامات سے خطے میں ایک ایسی جنگ چھڑ سکتی ہے جسے قابو کرنا مشکل ہو جائے گا۔ یہ اختلاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں قیادت کی تبدیلی کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے منصب سنبھالا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان یہ سرد مہری تہران کے خلاف مغربی اتحاد کو کمزور کر سکتی ہے۔