امریکہ کی 'منظوری' کے بغیر ایران کا نیا سپریم لیڈر زیادہ دیر نہیں ٹک سکے گا: امریکی صدر ٹرمپ

واشنگٹن/تہران (رم نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں نئی قیادت کے انتخاب کے حوالے سے ایک انتہائی سخت اور جارحانہ بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن کی مرضی کے بغیر منتخب ہونے والا کوئی بھی ایرانی رہنما اپنے منصب پر زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہ سکے گا۔ یہ بیان مجتبیٰ خامنہ ای کے بطور سپریم لیڈر انتخاب سے محض چند گھنٹے قبل سامنے آیا۔
امریکی ٹی وی 'اے بی سی نیوز' کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے مستقبل کے رہبرِ اعلیٰ کو امریکی رضامندی حاصل کرنا ہوگی۔ ٹرمپ کا کہنا تھا نئے لیڈر کو ہم سے منظوری لینا ہوگی، اگر اس نے ایسا نہ کیا تو وہ زیادہ دیر تک نہیں ٹک سکے گا۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ پانچ سال بعد دوبارہ کسی امریکی انتظامیہ کو یہی سب کچھ (فوجی کارروائی) کرنا پڑے یا ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت دی جائے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں شدت آگئی ہے اور دوسری جانب جوابی کارروائیوں میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ایرانی حکام نے صدر ٹرمپ کے اس دعوے کو "مضحکہ خیز" قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ سپریم لیڈر کا انتخاب ایران کا داخلی آئینی معاملہ ہے اور واشنگٹن کو اس عمل پر اثر انداز ہونے یا اسے "ویٹو" کرنے کا کوئی قانونی یا اخلاقی حق حاصل نہیں ہے۔