عالمی معاشی ایمرجنسی، ایشیائی سٹاک مارکیٹس کریش، جنوبی کوریا میں 30 سال بعد تیل کی قیمتیں منجمد کرنے کا حکم

ٹوکیو/سیئول (رم نیوز) ایران جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے اور سپلائی میں تعطل کے خوف نے ایشیا کی بڑی معیشتوں کو لرزا کر رکھ دیا ہے۔ جاپان اور جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹس میں ہونے والی تاریخی گراوٹ نے عالمی سرمایہ کاروں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔

جنگ کے سائے میں توانائی کی قیمتیں بڑھنے کے خدشے نے مشرقی ایشیا کے صنعتی ممالک کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ ٹوکیو سٹاک ایکسچینج کا اہم انڈیکس 7 فیصد گر گیا، جسے حالیہ برسوں کی بدترین مندی قرار دیا جا رہا ہے۔ سیئول کی مارکیٹ میں 8 فیصد کی تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد حکام کو مداخلت کرنا پڑی۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی تباہی کو روکنے کے لیے جنوبی کوریا کے صدر نے ایک غیر معمولی آرڈر دیا ہے ۔

ملک میں 30 سال بعد پہلی بار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر 'پرائس کیپ' لگانے یعنی قیمتیں ایک خاص حد سے اوپر نہ بڑھنے دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جنوبی کوریا نے آخری بار 1997 سے قبل ایسی براہِ راست مداخلت کی تھی۔ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ان بیانات کو کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ایک عارضی دھچکا ہے، مارکیٹ نے مسترد کر دیا ہے۔

سرمایہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ایران کی تیل سپلائی مستقل معطل رہی تو یہ عارضی جھٹکا ایک طویل عالمی کساد بازاری میں بدل سکتا ہے۔جاپا پان اور جنوبی کوریا کا انحصار 90 فیصد سے زائد مشرق وسطیٰ کے تیل پر ہے، یہی وجہ ہے کہ وہاں کی مارکیٹیں اس وقت سب سے زیادہ دباؤ میں ہیں۔ جنوبی کوریا کا قیمتیں منجمد کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ صورتحال کنٹرول سے باہر ہو رہی ہے اور ہنگامی حالات پیدا ہونے کا امکان ہے ۔