عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 150 ڈالر تک جانے کا خدشہ، ماہرین نے 'بڑے معاشی دھچکے' کی وارننگ دے دی

سڈنی/نیویارک (رم نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی شدت اور عالمی سپلائی لائن متاثر ہونے کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ 'Trading.com' کے چیف ایگزیکٹو پیٹر میگوائر نے خبردار کیا ہے کہ اگر خلیجی ممالک نے ہنگامی حالات کے پیشِ نظر پیداوار بند کی تو تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے ماہر معاشیات پیٹر میگوائر نے بتایا کہ قیمتوں میں اضافے کی رفتار انتہائی تشویشناک ہے۔

گزشتہ جمعرات تک تیل کی قیمت 75 سے 80 ڈالر کے درمیان تھی، جو اچانک بڑھ کر 90 ڈالر اور آج ایشیائی ٹریڈنگ کے دوران 116 ڈالر کی بلند ترین سطح کو چھو گئی۔ فی الوقت قیمت 106 ڈالر کے گرد گھوم رہی ہے، لیکن ایک ہی گھنٹے کے دوران قیمتوں کا اوپر نیچے ہونا مارکیٹ میں شدید خوف کی نشاندہی کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، عالمی منڈی اس وقت آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی نقل و حمل مکمل بند ہونے پر ردِعمل دے رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مزید خلیجی ممالک نے 'فورس میجر' کے تحت گیس اور تیل کی پیداوار روک دی، تو قیمتیں 140 سے 150 ڈالر تک پہنچنا اب ناممکن نہیں رہا۔ پیٹر میگوائر کے مطابق، اگر یہ کشیدگی ایک ماہ یا اس سے زیادہ برقرار رہی تو عالمی سطح پر مہنگائی کا وہ طوفان آئے گا جس سے عام صارف بری طرح پس کر رہ جائے گا۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ جی سیون ممالک کی جانب سے ہنگامی ذخائر مارکیٹ میں لانے کی خبریں منڈی کے ہیجان کو کسی حد تک کم کر سکتی ہیں۔