تہران (رم نیوز) ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ نوازی پر یورپی یونین کو کرارا جواب دیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایران امریکہ تنازع پر یورپی ممالک کے طرزِ عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے "قابلِ افسوس" قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ یورپ نے یوکرین کے معاملے پر امریکی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے بین الاقوامی قوانین کو قربان کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر جاری اپنے ایک بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ یورپی ممالک نے ایران کے خلاف جنگ کی حمایت اس امید پر کی تھی کہ بدلے میں انہیں یوکرین محاذ پر امریکہ کا مزید تعاون ملے گا۔ تاہم، اس کے برعکس اس تنازع نے ایسی صورتحال پیدا کر دی کہ روسی تیل کی درآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی آ گئی، جو کہ یورپ کی تزویراتی ناکامی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ قانونی ماہرین کے مطابق ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے سراسر غیر قانونی ہیں، لیکن اس کے باوجود یورپی یونین اور بیشتر ممالک نے جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے الٹا ایران کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا۔ عباس عراقچی نے سپین اور چند دیگر ممالک کے استثنائی اور متوازن مؤقف کا حوالہ بھی دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپ کو یہ امید تھی کہ ایران کے خلاف غیر قانونی جنگ کی پشت پناہی کر کے وہ روس کے خلاف واشنگٹن کی حمایت حاصل کر لے گا، لیکن صورتحال اس کے برعکس ثابت ہو رہی ہے۔