مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی ہولناک لہر: ایران کا 51 واں حملہ، آبنائے ہرمز امریکی اتحادیوں کیلئے بند

تہران/واشنگٹن/ریاض (رم نیوز)مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی ہولناک لہر جاری ہے، ایران نے 51 واں حملہ کیا ہے اور آبنائے ہرمز امریکی اتحادیوں کیلئے بند کردی گئی ہے۔ ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری تنازعہ "آپریشن وعدہ صادق" کے تحت ایک انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے حملوں کی 51 ویں لہر کا آغاز کرتے ہوئے سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے میں موجود امریکیوں کو فوری نکلنے کی ہدایت کر دی ہے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق تازہ ترین میزائل حملہ سعودی عرب کے علاقے الخرج میں واقع امریکی فوجی اڈے پر کیا گیا، جہاں ایف 35 اور ایف 16 طیاروں کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ 51 واں حملہ شہید ابوالقاسم بابائیان اور ان کی زوجہ کی یاد میں کیا گیا۔ ادھر اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں 20 دھماکے ہوئے ہیں، جس سے شہر کے کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی ہے۔ گزشتہ 15 روز کے دوران جاری اس خونی معرکے میں نقصانات کی تفصیلات کچھ یوں ہیں ۔

امریکی و اسرائیلی حملوں میں 1444 افراد شہید ہوئے، جبکہ 43 ہزار عمارتیں (جن میں 36,500 رہائشی یونٹس اور 120سکول شامل ہیں) ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ اسرائیلی بمباری سے 826 افراد شہید ہوئے۔ ایرانی حملوں میں 11 امریکی فوجی اور 14 اسرائیلی ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ یو اے ای میں 6، عراق میں 26 اور کویت میں 6 افراد جاں بحق ہوئے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے دو ٹوک اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے علاوہ تمام دنیا کے لیے کھلی ہے۔

ایران نے بھارت اور ترکیہ کے بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے دی ہے، جس کے بعد فرانس اور اٹلی نے بھی ایران سے براہِ راست رابطے کا فیصلہ کیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے تیل کی برآمدات کے مرکز خارگ جزیرے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے اتحادی ممالک کو پیغام دیا کہ وہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کے لیے اپنی سکیورٹی کا خود بندوبست کریں۔

ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ "سمجھداری" دکھاتے ہوئے ہتھیار ڈال دیں۔ غیر جانبداری کے قانون کے تحت امریکی فوجی پروازوں کو اپنی فضائی حدود دینے سے انکار کر دیا۔ اسرائیل کی مدد کے لیے ہزاروں 'آکٹوپس' انٹرسیپٹر ڈرون مشرقِ وسطیٰ بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔ روس کا کارگو طیارہ 13 ٹن طبی امداد لے کر ایران روانہ ہو گیا ہے، جبکہ چین نے متاثرہ خاندانوں کے لیے عطیات کا اعلان کیا ہے۔