اسلام آباد (رم نیوز) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا وفد پاکستان کے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری میں مشاورت کے لیے وزارتِ خزانہ پہنچ گیا ہے، جہاں تعارفی سیشن کے ساتھ ہی مذاکرات کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق، ان مذاکرات میں پاکستان کی معاشی سمت کا تعین کرنے کے لیے درج ذیل اہم امور پر غور کیا جا رہا ہے۔ نئے وفاقی بجٹ کے بنیادی ڈھانچے اور اہداف کو آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق ترتیب دیا جائے گا۔ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے، ریونیو جمع کرنے کے اہداف اور مالیاتی خسارے کو کم کرنے کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا۔
بجلی اور گیس کے شعبوں میں گردشی قرضے کی کمی، توانائی اصلاحات اور سرکاری اداروں کی نجکاری میں اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ وفد کے سٹیٹ بینک حکام کے ساتھ بھی الگ سے مذاکرات شیڈول ہیں، جن میں مانیٹری پالیسی اور غیر ملکی ذخائر پر بات ہوگی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ وفد کے ساتھ طے پانے والے تمام معاشی اہداف کی پارلیمنٹ سے منظوری حاصل کرنا لازمی ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد معاشی پالیسیوں میں سیاسی اتفاقِ رائے اور تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔ "آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں اور توقع ہے کہ اگلے ہفتے تک بجٹ کی دستاویز کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔" آئی ایم ایف کا یہ وفد 20 مئی تک پاکستان میں قیام کرے گا، جس کے دوران مختلف تکنیکی سیشنز میں معیشت کے تمام اہم شعبوں کی کارکردگی کو پرکھا جائے گا۔ اس دو