میکسیکو کی جدید تاریخ کے سب سے خوفناک اور طاقتور ڈرگ لارڈ، نیمیسو اوسیگیرا سروینٹس عرف ’ال مینچو‘ کی ایک فوجی آپریشن میں ہلاکت نے عالمی سطح پر ہلچل مچائی ہوئی ہے۔ ال مینچو محض ایک منشیات فروش نہیں تھا، بلکہ وہ 'جالسکو نیو جنریشن کارٹیل' (CJNG) کا بانی اور سربراہ تھا، جس نے محض ایک دہائی میں میکسیکو کے طول و عرض میں اپنا جال پھیلا کر ریاست کی رٹ کو چیلنج کر رکھا تھا۔ ماہرین ال مینچو کی ہلاکت کو ایک 'دو دھاری تلوار' قرار دے رہے ہیں۔ اس کی ہلاکت سے پیدا ہونے والا 'پاور ویکیوئم' خطرات کو جنم دے سکتا ہے۔
اتوار کے روز جنوبی جالسکو میں ہونے والا آپریشن میکسیکن سپیشل فورسز اور امریکی انٹیلی جنس کے درمیان مثالی تعاون کا نتیجہ تھا۔ امریکہ، جس نے ال مینچو کے سر پر 15 ملین ڈالر کا انعام رکھا تھا، اسے 'فینٹانائل' بحران کا ذمہ دار سمجھتا تھا۔ یہ کیمیائی منشیات امریکہ میں ہزاروں اموات کا سبب بن رہی ہے، اور ال مینچو کا گروہ اس کی سپلائی کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ ال مینچو کی ہلاکت کے فوری بعد میکسیکو کے 20 صوبوں میں جو آگ لگی، وہ اس کی طاقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 'نارکو ٹیررازم' کے اس حالیہ واقعے میں سڑکوں پر گاڑیاں جلائی گئیں، نیشنل گارڈ کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا اور بڑے شہروں کو مفلوج کر دیا گیا۔
یہ ردعمل اس بات کی علامت ہے کہ کارٹیل اب بھی اپنی افرادی قوت اور اسلحے کے بل بوتے پر ریاست کو جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ال مینچو کی غیر موجودگی میں CJNG کے مختلف دھڑوں میں قیادت کی جنگ چھڑ سکتی ہے، جو میکسیکو کی گلیوں کو میدانِ جنگ بنا دے گی۔ بدنام زمانہ 'سینالوا کارٹیل' اور دیگر چھوٹے گروہ اب ان علاقوں پر قبضے کی کوشش کریں گے جہاں ال مینچو کی حکمرانی تھی، جس سے بین الکارٹیل تشدد میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ڈرگ لارڈز کی ہلاکت سے منشیات کی تجارت ختم نہیں ہوتی بلکہ یہ چھوٹے گروہوں میں منتقل ہو جاتی ہے، جنہیں کنٹرول کرنا ریاست کے لیے زیادہ مشکل ثابت ہوتا ہے۔
ال مینچو کی ہلاکت میکسیکو کی حکومت اور امریکہ کے لیے ایک بڑی علامتی فتح ہے، لیکن یہ فتح اپنے ساتھ بدامنی کا ایک نیا دور بھی لا سکتی ہے۔ میکسیکو کو اب نہ صرف اس کے مسلح ساتھیوں کے غیظ و غضب کا سامنا ہے، بلکہ اسے اس منظم جرائم کے ڈھانچے کو بھی جڑ سے اکھاڑنا ہوگا جو ال مینچو نے برسوں کی محنت سے تیار کیا تھا۔ دنیا کی نظریں اب میکسیکو پر ہیں کہ آیا وہ اس 'خلا' کو قانون کی بالادستی سے بھرتا ہے یا یہ ملک ایک بار پھر منشیات کے کارٹیلز کی خونی جنگ کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔