یروشلم/تل ابیب (رم نیوز) انڈین وزیراعظم نریندر مودی کا آج سے شروع ہونے والا دو روزہ سرکاری دورہ اسرائیل، دفاعی معاہدوں سے زیادہ اسرائیل کی اندرونی سیاسی جنگ اور پارلیمانی بائیکاٹ کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگرچہ اسے ایک 'تاریخی' موقع قرار دیا جا رہا ہے، لیکن اسرائیلی اپوزیشن کی جانب سے مودی کے خطاب کے بائیکاٹ کے اعلان نے سفارتی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔
اس تنازع کی اصل وجہ انڈین وزیر اعظم نہیں بلکہ اسرائیل کا اندرونی آئینی بحران ہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے سپیکر امیر اوہانا نے مودی کے خطاب کے لیے منعقدہ خصوصی اجلاس میں سپریم کورٹ کے صدر جسٹس آئزک امیت کو مدعو کرنے سے انکار کر دیا ہے۔سابق اسرائیلی وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے اسے عدلیہ کی توہین قرار دیتے ہوئے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ڈیڑھ ارب آبادی والے ملک کے رہنما کو "آدھی خالی پارلیمنٹ" کے سامنے انڈیا کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتے۔ سپیکر امیر اوہانا نے بائیکاٹ کو "سیاسی ہتھیار" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اپوزیشن نہیں آتی تو وہ خالی نشستیں بھرنے کے لیے سابق قانون سازوں کو مدعو کریں گے تاکہ مودی کا خطاب خالی ہال میں نہ ہو۔سیاسی گرما گرمی کے باوجود اس دورے کا محور بڑے دفاعی معاہدے ہیں۔
فوربز انڈیا کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان درج ذیل اہم معاہدے متوقع ہیں۔
ہیرون ایم کے 2 (Heron MK2) ڈرونز کی خریداری جو 45 گھنٹے تک مسلسل پرواز اور 35 ہزار فٹ کی بلندی تک جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سپائس 1000 پرسیژن گائیڈڈ بم، ہوا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل اور بیلسٹک میزائل سسٹم۔
انڈیا کا اصرار ہے کہ یہ جدید اسرائیلی ٹیکنالوجی 'میک ان انڈیا' پروگرام کے تحت انڈیا ہی میں تیار کی جائے۔
اسرائیلی میڈیا 'ہارٹیز' کے مطابق، انڈین سفارت خانہ اس صورتحال پر سہما ہوا ہے کیونکہ ایک ایسے لیڈر کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے جو پہلی بار اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرنے والا ہے۔ نیتن یاہو حکومت کی جانب سے عدلیہ کے اختیارات کم کرنے کی کوششوں نے ایک بین الاقوامی دورے کو داخلی سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ جہاں مودی اور نیتن یاہو دفاعی شراکت داری کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں، وہیں اسرائیل کی اندرونی تقسیم نے اس دورے کے پروٹوکول اور وقار پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔