امریکی صدر ڈوبلڈ ٹرمپ کے ایران میں رجیم چینج کی باتیں کی جارہی ہیں۔ واشنگٹن میں امریکہ فرسٹ کی پالیسی کے حوالے سے لائحہ عمل تیار کیاجارہا ہے۔اس کےعلاوہ امریکی ترجمانوں کی طرف سے یہ بھی کہاجارہا ہے کہ اگر ایران کی طرف سے کوئی جارحیت ہوئی تو نتائج سنگین ہوسکتے ہیں اور اسی وجہ سے امریکہ کی طرف سے باربار مذاکرات کاکہا جارہا ہے۔ دوسری طرف امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور بھی ہورہا ہے۔ تاہم ایران میں رجیم چینج کی بازگشت ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد سے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں تبدیلی کی لہر ہے ۔ جنوری اور فروری 2026 کے دوران ایران میں ہونے والے اندرونی احتجاج اور امریکہ کی سخت گیر پالیسیوں نے اس بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا واشنگٹن اب تہران میں دہائیوں سے قائم نظام کو بدلنے کا حتمی فیصلہ کر چکا ہے۔
صدر ٹرمپ کے اس جارحانہ عزائم کے پیچھے کئی اہم تزویراتی اور سیاسی عوامل کارفرما ہیں۔ ان کا تذکرہ کرنا ضروری ہے۔ اس حوالے سے سب سے پہلی بات یہ ہےکہ گزشتہ برسوں میں ہونے والے امریکی فضائی حملوں (آپریشن مڈنائٹ ہیمر) نے ایران کی ایٹمی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ صدر ٹرمپ کا ماننا ہے کہ ایران کو محض کمزور کرنا کافی نہیں، بلکہ ایک ایسی مستقل قیادت کی ضرورت ہے جو جوہری ہتھیاروں کی دوڑ سے دستبردار ہو جائے۔ ٹرمپ کے نزدیک موجودہ ایرانی قیادت کے ساتھ کوئی بھی نیا معاہدہ "وقت کا ضیاع" ہے۔ فروری 2026 میں ایران کے بڑے شہروں میں معاشی بدحالی اور پابندیوں کے خلاف عوامی تحریک نے زور پکڑلیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ ان مظاہرین کو "آزادی کے متوالے سپاہی " قرار دے کر ان کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ امریکہ کا خیال ہے کہ اگر باہر سے دباؤ بڑھایا جائے تو اندرونی بغاوت کے ذریعے حکومت کی تبدیلی آسان ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ شام میں اسد حکومت کے خاتمے اور لبنان و غزہ میں ایران نواز گروپوں کی کمر ٹوٹنے کے بعد، امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ ایران اب اپنے تاریخ کے کمزور ترین موڑ پر کھڑا ہے اور وہاں پر رجیم چینج کی صورتحال ہوسکتی ہے ۔
قابل ذکر بات یہ ہےکہ ٹرمپ اس "سنہری موقع" کو ضائع نہیں کرنا چاہتے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے اثر و رسوخ کومکمل طور پر ختم کیا جاسکے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے حالیہ بیانات کے مطابق ایران ایسے بین البراعظمی میزائل (ICBMs) تیار کر رہا ہے جو امریکہ کی سرزمین کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی صدارت کے دوران کسی ایسے ملک کو پروا ن نہیں چڑھنے دیں گے جو براہِ راست امریکی سلامتی کے لیے خطرہ ہو۔ صدر ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں بی ٹو سٹیلتھ بمبار طیارے اور بحری بیڑے تعینات کر دیے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ براہِ راست زمین پر فوج اتارنے کے بجائے درج ذیل حکمت عملی اپنا سکتا ہے۔
اس میں ایران کی تیل کی برآمدات کو صفر تک لانا ہے۔ ایران کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو مفلوج کرنا بھی اس فہرست میں ہے۔ جلاوطن ایرانی رہنماؤں کو تہران میں اقتدار سنبھالنے کے لیے تیار کرنا بھی لسٹ بھی شامل ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایران میں "رجیم چینج" محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ان کی "امریکہ فرسٹ" پالیسی کا اہم ستون بن چکا ہے۔ وہ تہران میں ایک ایسی حکومت دیکھنا چاہتے ہیں جو امریکہ کے ساتھ تعاون کرے اور اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرے۔ تاہم، عالمی برادری خدشہ ظاہر کر رہی ہے کہ اس مہم جوئی سے خطہ ایک ایسی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے جس کے اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے۔