ایران پر حملے، امریکی کانگریس میں صدر ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کے لیے ووٹنگ کا فیصلہ

واشنگٹن / تہران(رم نیوز)ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کے پیش نظر، امریکی کانگریس رواں ہفتے ایک اہم قرارداد پر ووٹنگ کرنے جا رہی ہے۔ اس قرارداد کا مقصد "وار پاورز ایکٹ" کے تحت صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں سے روکنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں جاں بحق ہونے والے ایرانی شہریوں کی تعداد 550 سے تجاوز کر گئی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل جون 2025 میں بھی امریکہ نے ایران کی ایٹمی تنصیبات بشمول نطنز، فردو اور اصفہان پر مہلک حملے کیے تھے، جن میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی قانون کے مطابق صدر کے لیے لازم ہے کہ وہ کسی بھی ملک میں فوج بھیجنے یا جنگی صورتحال پیدا کرنے سے پہلے کانگریس سے مشاورت کرے۔

صدر کو کسی بھی فوجی تعیناتی کے 48 گھنٹوں کے اندر کانگریس کو آگاہ کرنا ہوتا ہے۔ صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ یہ حملے ایک "فوری خطرے" کے باعث ناگزیر تھے اور چونکہ ان میں زمینی فوج شامل نہیں بلکہ صرف فضائی کارروائیاں ہیں، اس لیے انہیں مکمل "جنگ" قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ڈیموکریٹس اور کانگریس کے دیگر ارکان نے ان حملوں کو "غیر قانونی" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔